ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں انسدادِ بدعنوانی کے لیے نیشنل اینٹی فراڈ ڈویژن قائم کر دیا
واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں مبینہ فراڈ کے خلاف کارروائی کے لیے محکمہ انصاف کے تحت نیا نیشنل اینٹی فراڈ ڈویژن قائم کر دیا ہے۔ اس کا اعلان 8 جنوری 2026 کو کیا گیا، جس کا مقصد وفاقی سطح پر بڑھتے فراڈ کے واقعات سے نمٹنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق نیا ڈویژن وفاقی پروگرامز، سرکاری فنڈز، کاروباری اداروں، غیر منافع بخش تنظیموں اور عام شہریوں کو متاثر کرنے والے فراڈ کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کرے گا۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اس ڈویژن کی سربراہی کریں گے اور اہم فراڈ کیسز پر پالیسی مشاورت بھی فراہم کریں گے۔
دوسری جانب انسانی حقوق اور امیگریشن سے وابستہ حلقوں نے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ فراڈ کے الزامات کو امیگرنٹس اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ریاست مینیسوٹا میں امیگرنٹس، بالخصوص صومالی کمیونٹی، کو نشانہ بنانے پر اعتراض کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مینیسوٹا کے مختلف فلاحی پروگرامز میں مبینہ فراڈ کے کیسز میں اب تک 98 افراد پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے جبکہ 64 کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ اسی تناظر میں محکمہ داخلی سلامتی نے مینیسوٹا میں تقریباً 2000 اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔
ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے کیلیفورنیا، مینیسوٹا اور دیگر ڈیموکریٹک ریاستوں کے 10 ارب ڈالر سے زائد کے وفاقی فنڈز بھی منجمد کیے، جس پر متاثرہ ریاستوں نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔