فرانس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار اموات پیدائش سے زیادہ ہو گئیں

0

پیرس: فرانس میں 2025 میں پہلی بار دوسری جنگ عظیم کے بعد اموات کی تعداد پیدائش سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار قومی ادارہ برائے شماریات و معاشی مطالعات (INSEE) کی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تقریباً 6 لاکھ 45 ہزار رہی، جو 2024 کے مقابلے میں 2.1 فیصد کم ہے، جبکہ 2024 میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد 6 لاکھ 60 ہزار تھی۔

 دوسری جانب 2025 میں اموات کی مجموعی تعداد تقریباً 6 لاکھ 51 ہزار رہی، جو 2024 کے مقابلے میں 1.5 فیصد زیادہ ہے۔ اموات میں اضافے کی بڑی وجہ سال کے آغاز میں شدید موسمی فلو قرار دی گئی ہے۔

پیدائش اور اموات کے اس فرق کے باوجود فرانس کی مجموعی آبادی میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ ہجرت رہی۔ یکم جنوری 2026 تک فرانس کی آبادی تقریباً 6 کروڑ 91 لاکھ تک پہنچ گئی، جس میں 6 کروڑ 68 لاکھ میٹروپولیٹن فرانس اور 23 لاکھ بیرونِ ملک علاقوں میں مقیم ہیں۔

تازہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق فرانس میں متوقع اوسط عمر خواتین کے لیے 85.9 سال اور مردوں کے لیے 80.3 سال ہے، جو یورپی یونین کی مجموعی اوسط سے اب بھی زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان آبادی میں عمر رسیدگی اور پیدائش کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے معاشی اور سماجی منصوبہ بندی کے لیے اہم چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.