پاکستان اور ترکیہ کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت، فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت
نیویارک: پاکستان اور ترکیہ نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے، جبکہ اس سے قبل بھی متعدد ممالک اس اقدام پر رضامندی ظاہر کرچکے ہیں۔ اس فیصلے کو فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور غزہ میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
بورڈ آف پیس کے اہم مقاصد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق غزہ مسئلے کا مستقل حل، مستقل جنگ بندی، غزہ کی تعمیرِ نو، فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور خطے میں دیرپا امن کو یقینی بنانا شامل ہے۔
پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ موجودہ عالمی تقسیم اور بڑھتی ہوئی دھڑے بندیوں کے تناظر میں ایسے بین الاقوامی فورمز کا حصہ بننا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک ناگزیر ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو امریکا، چین اور روس جیسے عالمی طاقت کے مراکز کے ساتھ متوازن اور مضبوط تعلقات رکھتے ہیں، جس کے باعث عالمی سیاست میں اس کا کردار منفرد اور مؤثر حیثیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان بورڈ آف پیس میں شمولیت کے ذریعے اپنے غیر جانبدارانہ اور اصولی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے تمام بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ روابط قائم رکھ سکے گا، جس سے اس کی تزویراتی خودمختاری مزید مستحکم ہوگی۔
پاکستان نے ہمیشہ ایک اصولی اور متوازن خارجہ پالیسی اپنائی ہے، جس میں چین، بھارت، کشمیر اور فلسطین جیسے حساس امور پر قومی مفاد اور بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھا گیا۔ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے، فلسطینی مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے، القدس شریف کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے اصولی مؤقف کو مسلسل برقرار رکھا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے عالمی فورمز سے لاتعلقی کسی بھی ریاست کی بین الاقوامی حیثیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ پاکستان نے عالمی امن اور استحکام کے لیے متحرک کردار ادا کرتے ہوئے مثبت سفارتی حکمت عملی اپنائی ہے، جو بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن میں قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شمولیت کے حوالے سے واضح اور غیر مبہم موقف اختیار کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کسی بھی فیصلے میں پاکستان کے قومی مفاد، اقوام متحدہ کے مینڈیٹ اور فلسطینی عوام کی خواہشات کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔ بورڈ آف پیس اور آئی ایس ایف کو ایک دوسرے کے مترادف قرار دینا غیر منطقی اور بعض عناصر کی گمراہ کن تشریح کے مترادف ہے۔