مودی کی کس غلطی کی وجہ سے بھارت امریکہ معاہدہ کھٹائی میں پڑا، امریکی وزیر تجارت نے بتادیا
نیویارک :امریکہ کے وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ اس وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے معاہدہ حتمی شکل دینے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلی فون کال نہیں کی۔
جمعے کے روز ایک امریکی پوڈکاسٹ شو ’آل اِن‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ تقریباً طے پا چکا تھا تاہم آخری مرحلے پر مودی کی جانب سے صدر ٹرمپ کو فون نہ کیے جانے کے باعث بات آگے نہ بڑھ سکی۔
لٹنک کے مطابق سب کچھ تیار تھا صرف یہ ضروری تھا کہ مودی صدر کو فون کریں مگر وہ ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔ یوں مودی نے کال نہیں کی اور معاملہ وہیں رک گیا۔
گزشتہ سال تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا تھا جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ شرح سمجھی جاتی ہے۔ ان میں 25 فیصد اضافی ٹیرف بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے ردعمل میں عائد کیا گیا تھا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے روس سے تیل کی درآمدات میں کمی نہ کی تو ٹیرف مزید بڑھائے جا سکتے ہیں۔ اس انتباہ کے بعد بھارتی روپے کی قدر تاریخی کم ترین سطح پر آ گئی جبکہ سرمایہ کار بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے۔