پاکستان میں 4 سال میں اوسط اجرت میں 62٪ اضافہ، مگر قوتِ خرید بدستور دباؤ کا شکار
اسلام آباد: لیبر فورس سروے 25-2024 کے مطابق پاکستان میں گزشتہ چار برسوں کے دوران اوسط ماہانہ اجرت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم بلند افراطِ زر کی وجہ سے حقیقی قوتِ خرید پر اثرات محدود رہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں اوسط ماہانہ اجرت 24,028 روپے تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 39,042 روپے ہو گئی، یعنی تقریباً 62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ لیکن اسی عرصے میں مہنگائی کی بلند شرح نے اس اضافے سے حاصل ہونے والی حقیقی آمدنی کو متاثر کیا۔ 2021 میں افراطِ زر 29 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ بعد کے برسوں میں بھی مہنگائی بلند رہی۔
سرو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اجرتوں میں اضافہ تمام شعبوں میں یکساں نہیں رہا۔ رسمی شعبے میں اوسط ماہانہ اجرت 34,964 روپے سے بڑھ کر 54,038 روپے ہو گئی، جو تقریباً 54.5 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ غیر رسمی شعبے میں، جہاں اکثریت مزدور کام کرتی ہے، اجرتیں 17,529 روپے سے بڑھ کر 30,834 روپے ماہانہ تک پہنچیں۔ ادارہ شماریات نے دعویٰ کیا کہ سروے میں معیاری اصولوں کی پاسداری کی گئی، تاہم غیر رسمی شعبے میں پانچ فیصد تک غلطی کے امکان کو تسلیم کیا گیا۔
صوبوں کی بنیاد پر اوسط ماہانہ اجرت بلوچستان میں سب سے زیادہ 27,659 روپے ریکارڈ ہوئی، سندھ 24,664 روپے، خیبر پختونخوا 24,028 روپے اور پنجاب 23,367 روپے کے ساتھ دیگر صوبوں میں درج کی گئی۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ فرق حقیقی اجرتی صورتحال سے زیادہ سروے کی ساخت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
افراطِ زر کی شرح بھی اس عرصے میں غیر معمولی رہی: 2020 میں 8.9 فیصد، 2021 میں 29.18 فیصد، 2023 میں 23.41 فیصد اور 2024 میں اوسطاً 4.49 فیصد۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بلند مہنگائی نے خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کی حقیقی آمدنی کو شدید نقصان پہنچایا، جن کے اخراجات کا بڑا حصہ خوراک، توانائی اور ٹرانسپورٹ پر صرف ہوتا ہے۔
رسمی شعبے میں اجرتوں کے اضافے کی بڑی وجہ سول اور عسکری ملازمین کی تنخواہوں میں بار بار نظرِ ثانی ہے، جو مجموعی روزگار کا تقریباً 7 فیصد ہیں اور جن کی تنخواہیں وفاقی بجٹ سے ادا کی جاتی ہیں۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار میں اجرتوں میں اضافہ واضح ہے، حقیقی آمدنی اور قوتِ خرید میں بہتری جانچنے کے لیے مزید جامع اور حقائق پر مبنی تجزیے کی ضرورت ہے۔