ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی سمت تاریخی پیش رفت، وزیراعظم کا انسپائر انیشی ایٹو کی افتتاحی تقریب سے خطاب

0

اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت پر عبور حاصل کرنے والی قومیں ہی مستقبل کی قیادت کریں گی، اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان جدید شعبوں میں اپنی نوجوان نسل کو تربیت دے۔وہ منگل کو اسلام آباد میں نیشنل سیمی کنڈکٹر پروگرام کے تحت ’انسپائر انیشی ایٹو‘ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں اس وقت سیمی کنڈکٹرز کے حوالے سے ’بیانیے کی جنگ‘ جاری ہے اور جو ممالک اس ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کر لیں گے، وہی آنے والے وقت میں عالمی معیشت پر اثر انداز ہوں گے۔وزیر اعظم کے مطابق، سیمی کنڈکٹر پروگرام پاکستان کے مستقبل اور نوجوان نسل میں سرمایہ کاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اس منصوبے کے لیے 4.5 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو ایک ابتدائی قدم ہے، اور مزید وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت متعدد اصلاحات کر رہی ہے جن میں ایف بی آر کی مکمل ڈیجیٹائزیشن، کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل والٹس جیسے اقدامات شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رمضان میں حکومت نے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے 20 ارب روپے مستحقین کو براہِ راست منتقل کیے، جو شفاف امدادی نظام کی سمت ایک بڑی پیش رفت تھی۔

وزیراعظم نے نوجوانوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آئی ٹی، اے آئی اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبوں میں ان کی تربیت کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔

اس موقع پر وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ نیشنل سیمی کنڈکٹر پروگرام پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ان کے مطابق، منصوبے کے تحت 7200 نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی، 9 یونیورسٹی کلسٹرز اور 6 جدید انٹیگریٹڈ سرکٹ لیبارٹریز قائم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت اور افواجِ پاکستان کے تعاون سے ملک ایک نئے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہا ہے، جس کی بنیاد خود انحصاری اور معاشی خودمختاری پر ہے۔

ٹیکنالوجی ماہر ڈاکٹر نوید شیروانی نے کہا کہ سیمی کنڈکٹرز مستقبل میں ڈیٹا سکیورٹی اور صنعتی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب اس شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کر چکے ہیں۔تقریب کے اختتام پر وزیراعظم نے نیشنل سیمی کنڈکٹر پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔

وزارتِ آئی ٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے تحت یہ منصوبہ پاکستان کو عالمی 600 ارب ڈالر مالیت کی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں شامل کرے گا، جس کا حجم 2030 تک ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.