امریکی نائب صدر نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کے فیصلے کو احمقانہ قرار دیدیا

0

تل ابیب: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے سے متعلق ووٹنگ کو “احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ سیاسی حربہ” قرار دے دیا۔

اسرائیل کا دورہ مکمل کرنے کے بعد تل ابیب ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ یہ ووٹنگ “ایک بے معنی علامتی اقدام” تھی جس کا کوئی عملی یا قانونی اثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ “اگر یہ ووٹ سیاسی پیغام دینے کے لیے تھا تو یہ نہایت ہی بے وقوفانہ قدم ہے، کیونکہ یہ غزہ امن معاہدے کی روح کے خلاف ہے اور امن عمل کی توہین کے مترادف ہے۔”

امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم نہیں کیا جائے گا۔ اگرچہ اسرائیلی پارلیمنٹ اپنے اندرونی معاملات میں کوئی علامتی ووٹ دے سکتی ہے، لیکن “ہم اس فیصلے سے ہرگز خوش نہیں ہیں اور اسے خطے میں امن کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔”

جے ڈی وینس نے زور دیا کہ امریکا خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھے گا اور کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرے گا جو دو ریاستی حلکے امکانات کو مزید کمزور کرے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ نے گزشتہ روز مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے غیرقانونی بل کی ابتدائی منظوری دے دی تھی، تاہم بین الاقوامی دباؤ کے باعث بل کے اگلے مراحل میں پیش رفت کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.