سیز فائر کے باوجود اسرائیل کی رکاوٹیں، غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل معطل ، بھوک و پیاس برقرار

0

غزہ: اسرائیلی فوج نے سیز فائر کے باوجود غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کر رکھی ہیں، جس کے باعث علاقے میں بھوک اور قحط کی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔

عرب میڈیاکے مطابق، سیز فائر کے اعلان کو دو ہفتے گزر جانے کے باوجود اسرائیلی حکام کی جانب سے امدادی قافلوں کو بارڈر پر روکے جانے کی شکایات مسلسل سامنے آرہی ہیں۔ امداد میں رکاوٹوں کے باعث غزہ کے لاکھوں شہری اب بھی پینے کے پانی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا شکار ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت  سمیت 41 انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے اپنے مشترکہ بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل دانستہ طور پر امدادی سامان کی ترسیل روک رہا ہے، جس سے انسانی المیہ شدت اختیار کر رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے اسپتالوں میں ادویات ختم ہو رہی ہیں جبکہ صاف پانی اور غذائی اشیاء کی کمی بچوں اور خواتین کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گئی ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں 11 ہزار سے زائد حاملہ خواتین خطرناک غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ علاقے کی ایک چوتھائی آبادی بھوک سے متاثر ہوچکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امداد کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو اس کے اثرات غزہ میں آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ میں بھوک اور بیماریوں کی موجودہ صورتحال کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار کیا جا سکتا ہے، اور عالمی برادری کو فوری طور پر اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ امداد کی بلا تعطل ترسیل ممکن ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.