مراسلے کی تحقیقات، سفیر کی بریفنگ،  بیرونی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا، قومی سلامتی کمیٹی

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مراسلے میں بیرونی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا اور تینوں سروسز چیف شریک ہوئے۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے منٹس پیش کیے گئے جبکہ گزشتہ اجلاس کے بعد کا جاری کردہ اعلامیہ بھی پیش کیا گیا۔

اجلاس میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید نے ٹیلی گرام کے مواد اور پس منظر پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں گزشتہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے منٹس کی توثیق کی گئی۔

اعلامیے کے مطابق ٹیلی گرام میں کسی سازش کے ثبوت نہیں ملے، سیکیورٹی ایجنسیز نے قومی سلامتی کمیٹی کو سازش کے ثبوت نہ ملنے سے آگاہ کر دیا ہے۔

سفیر کی بریفنگ اور سیکیورٹی ایجنسیز کی معلومات کے مطابق کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی۔

غیر ملکی خط کا معاملہ کیا ہے؟

یاد رہے کہ 27 مارچ 2022 کو تحریک انصاف کے چیئرمین اور اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں جلسے کے دوران ایک خط لہرا کر دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کو گرانے کی سازش ایک بہت ہی طاقتور ملک کی جانب سے کی گئی۔

بعد ازاں اس معاملے پر دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور سے احتجاج کرتے ہوئے ڈی مارش بھی جاری کیا تھا۔اسی معاملے پر 31 مارچ کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا۔

قومی سلامتی کمیٹی نے غیر ملکی سفارتکار کی استعمال کی گئی زبان پر تشویش کا اظہار کیا اور مؤقف اپنایا کہ غیرملکی مراسلہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت ناقابل برداشت ہے اور اندورنی معاملات میں مداخلت کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

اعلامیے کے مطابق غیر ملکی آفیشل کی استعمال کی گئی زبان غیر سفارتی ہے، سفارتی آداب مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ ملک سے سخت احتجاج کیا جائے گا اور غیرملکی مراسلے کا جواب سفارتی آداب کومدنظر رکھ کردیا جائے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ متعلقہ ملک کو اسلام آباد اور اس کے دارالحکومت میں سخت احتجاجی مراسلہ دیا جائے گا جبکہ سخت مراسلہ باضابطہ چینل کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔

بعد ازاں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کے بعد منتخب ہونے والے وزیراعظم شہباز شریف نے پہلی ہی تقریر میں مبینہ دھمکی آمیز خط کے معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں