رواں سال ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کا کوئی امکان نہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کو ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے تاحال کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

نجی کھیلوں کے خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے ایک اعلی عہدیدارکا کہنا ہے کہ رواں سال ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حکومت ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کا کہہ بھی دے تب بھی اتنی جلدی تبدیلیاں نہیں کی جاسکتیں کیونکہ اس کے لیے آئین کو تبدیل کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کی تقرری اور دیگر معاملات پر راتوں رات کام نہیں کیا جا سکتا جس کی وجہ سے کم از کم اس سال محکمانہ ٹیموں کی واپسی کا امکان نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق پی سی بی کے موجودہ چیئرمین رمیز راجہ بھی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے خلاف نہیں، اگر وہ عہدے پر بھی برقرار رہتے ہیں اور حکومت نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتی ہے تو وہ اس کی مخالفت نہیں کریں گے۔

دوسری جانب سابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو فوری بحال کیا جائے اور اس سلسلے میں تجاویز کے لیے ایک تھنک ٹینک کو قائم کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن کرکٹرز کا پی سی بی سے معاہدہ نہیں ہے، انہیں شروع میں گریڈ 2 کے ٹورنامنٹ میں موقع دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران ایک نیا نظام بنایا جائے جسے اگلے سال سے نافذ بھی کیا جاسکتا ہے جبکہ محکموں اور علاقوں کا ایک ساتھ کوئی بھی ٹورنامنٹ بھی ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ڈیپارٹمنٹ کے لیے دوبارہ ٹیموں کی تشکیل کوئی مشکل کام نہیں ہے ان میں سے اکثر کے ڈھانچے اب بھی موجود ہیں جبکہ نیشنل بینک اور یو بی ایل کے پاس تو اسپورٹس کمپلیکس بھی موجود ہیں۔

ان سب کو صرف تنظیم نو کرنا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو کچھ روزگار ملے، اس وقت کامران اکمل اور اسد شفیق جیسے کرکٹرز تک بے روزگار بیٹھے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں