پہلی مرتبہ وفاقی کابینہ میں شامل ہونے والے وزرا

وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے، ان کی کابینہ میں 31 وفاقی وزرا ، 3 وزرائے مملکت اور 3 مشیر شامل ہیں۔

کابینہ پر نظر دوڑائی جائے تو اس میں کئی جہاندیدہ چہرے اور وزارتوں سے کئی مرتبہ لطف اندوز ہونے والے لوگ نظر آئیں گے لیکن چند وزرا اور مشیر ایسے بھی ہیں جنہیں وفاقی سطح پر ذمہ داریاں نہیں ملیں۔

مولانا اسعد محمود

مولانا اسعد نپے تلے انداز میں بات کرتے ہیں تاہم اپوزیشن بینچوں میں رہ کر عمران خان کی حکومت کے خلاف کڑی تنقید کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔

مولانا اسعد محمود جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے فرزند ہیں اور 2018 کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

فیصل سبزواری

ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر بننے والے فیصل سبزواری کم و بیش 2 دہائیوں سے سیاست میں فعال کردار ادا کررہے ہیں۔

فیصل سبزواری 2002 سے 2018 تک 3 مرتبہ رکن سندھ اسمبلی رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے صوبائی وزیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی نبھائی ہیں۔

2021 میں فیصل سبزواری ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

بہترین مقرر کے طور پر جانے جانے والے فیصل سبزواری کی وفاقی سطح پر یہ پہلی ذمہ داری ہے۔

شازیہ عطا مری

شازیہ مری کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی ہے اور 2002 سے 2013 تک مسلسل دو ادوار میں شازیہ مری رکن سندھ اسمبلی رہی ہیں۔

2013 میں شازیہ مری پہلے خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن اسمبلی منتخب ہوئی تھیں تاہم بعد میں انہوں نے سانگھڑ میں قومی اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا اور رکن قومی امسبلی منتخب ہوئیں۔

2018 میں بھی شازیہ عطا مری نے سانگھڑ سے کامیابی حاصل کی۔

شازیہ عطا مری ماضی میں ایک نیوز چینل میں سیاسی پروگرام کی میزبانی بھی کرچکی ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا

مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کابینہ میں وزیر مملکت کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں گی۔

ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا 2013 سے 2018 تک مسلم لیگ (ن) کی جانب سے رکن پنجاب اسمبلی رہی ہیں۔ وہ پنجاب میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔

عبدالقادر پٹیل

2 مرتبہ رکن سندھ اسمبلی اور 2 مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے عبدالقادر پٹیل پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ایوان میں مراد سعید کی جانب سے کی جانے والی تنقید کے جواب میں عبدالقادر پٹیل ان پر دقیق الزامات لگانے کے حوالے سے مشہور ہیں۔

میاں جاوید لطیف

میاں جاوید لطیف کا شمار نواز شریف کے انتہائی وفادار اور دیرینہ کارکنوں میں ہوتا ہے۔

مراد سعید سے جھگڑے کے بعد جاوید لطیف کو شہرت ملی۔ 2008 سے مسلسل تیسری مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے جاوید لطیف کو پہلی مرتبہ وفاقی وزیر بنایا گیا ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا شمار ملک کے نامور اور جہاندیدہ وکیلوں میں ہوتا ہے۔

ماضی میں اعظم نذیر تارڑ وکلا سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں تاہم گزشتہ برس پہلی مرتبہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے۔

وہ پہلی مرتبہ وفاقی وزیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں گے۔

مخدوم مرتضیٰ محمود

رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے مخدوم مرتضیٰ محمود کا تعلق معروف سیاسی گھرانے سے ہے۔

مخدوم مرتضیٰ محمود کے والد مخدوم احمد محمود ماضی میں گورنر پنجاب رہ چکے ہیں۔

سندھ کے معروف گدی نشین پیر پگارا اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ان کی قریبی رشتے داری ہے۔

2018 کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ کامیاب ہوکر رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے مخدوم مرتضیٰ محمود کا شمار کابینہ کے نوجوان وزرا میں ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں