لاہور ہائیکورٹ کا 16 اپریل کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا حکم

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے لیے دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا گیا۔عدالت نے ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات بحال کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر ہی وزارت اعلی کا انتخاب کروائیں گے

عدالت کی جانب سے مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ ڈپٹی سپیکر 16 اپریل کو وزیر اعلی کا انتخاب کروائے۔ تمام فریقین غیر جانبداری سے فرائض انجام دیں گے۔صوبائی اسمبلی کا تمام عملہ الیکشن کروانے میں مکمل تعاون کرے گا

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ 11 بجے سے قبل اسمبلی کی تمام توڑ پھوڑ کو درست کروائے۔ کسی بھی رکن اسمبلی کے ووٹ کاسٹ کرنے میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔عدالت کی جانب سے حمزہ شہباز کی سیشن کی تاریخ تبدیل کرنے کی استدعا خارج کر دی گئی۔

اس سے قبل لاہورہائیکورٹ نے درخواستوں پر فیصلے کے لیے کاز لسٹ جاری کی تھی۔کاز لسٹ کے مطابق حمزہ شہباز اور دوست مزاری کی درخواستوں پر پانچ بجے فیصلہ سنایا جائے گا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد امیربھٹی نے حمزہ شہباز اور ڈپٹی سپیکر کی درخواستوں پر 12 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

گذشتہ روزلاہورہائیکورٹ میں چیف جسٹس محمد امیربھٹی نے ڈپٹی اسپیکردوست محمد مزاری اورحمزہ شہبازکی درخواستوں پرسماعت کی۔

مسلم لیگ ق کی طرف سے صفدر شاہین پیرزادہ، عامر سعید راں ایڈووکیٹس جبکہ اسپیکر صوبائی اسمبلی کی طرف سےبیرسٹرعلی ظفر اور حمزہ شہباز کی طرف سے اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی طرف سے بیرسٹر محمد عمر، سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی بھی اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے

سماعت کے دوران حمزہ شہباز کے وکیل نےعدالت کو بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر کو چارج لینے کا حکم دیا تھا اس پر عملدرآمد ہو گیا ہے۔

بیرسٹرعلی ظفرنےاسپیکر صوبائی اسمبلی کی طرف سے دلائل میں کہا گیا کہ یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ آئینی عدالت کوانتخابات کیلئے تاریخ تبدیل کرنے کا اختیارنہیں ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں