شہزاد اکبر اور شہباز گِل کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالے جانے کا حکم معطل

اسلام آباد ہائیکورٹ نے  شہزاد اکبر اور شہبازگل کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کا آرڈر معطل کردیا۔

عمران خان کے سابق مشیر شہزاد اکبر اور سابق معاون خصوصی شہباز گل ایف آئی اے کی جانب سے نام واچ لسٹ میں شامل کرنے کے اقدام کو عدالت  میں چیلنج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے جہاں دونوں رہنماؤں نےدرخواستیں دائرکیں۔

پی ٹی آئی کے دونوں رہنماؤں نے عدالت میں الگ الگ  درخواستیں دائر کی ہیں جن پر سماعت  کے لیے آج ہی بینچ تشکیل دینے کی استدعا  کی گئی ہے۔

پی  ٹی آئی رہنماؤں نے اپنی درخواستوں میں مؤقف اپنایا ہےکہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں لہٰذا ان کی بیرون ملک روانگی پر  پابندی کو ختم کیا جائے۔

اسلام  آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤ ں کی درخواست پر سماعت کی جس میں عدالت  نے استفسار کیا کہ مجازافسران مقررکریں جو وضاحت کریں کہ کس کےکہنے پرنام واچ لسٹ شامل کیا۔

عدالت  نے درخواست پر مختصر سماعت کے بعد شہزاد اکبر اور شہباز گل کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالنے کا حکم معطل کردیا۔

عدالت نے ڈی  جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت  کل صبح ساڑھے 10  بجے تک ملتوی کردی۔

اس سے قبل عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شہزاد اکبر نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا آغاز ہو گیا ہے، عدم اعتماد کی کارروائی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی اس رات نام اسٹاپ لسٹ میں کس نے ڈالا؟ نام اس وقت اسٹاپ لسٹ پر ڈالا گیا جب نہ کابینہ تھی، نہ حکومت ،نہ وزیراعظم۔

انہوں نے کہا کہ ہم کہیں نہیں جا رہے، اپنے لیڈر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں جب کہ میں تو اوورسیز پاکستانی بھی نہیں، حصول تعلیم کے 6-7 سال کے علاوہ ساری زندگی یہیں رہا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں