ہزاروں سال تک سمندری گھاس کھانے والی دنیا سامنے آگئی

ہزاروں سال تک سمندری گھاس کھانے والی دنیا سامنے آگئی

جرمنی : سی ویڈ ہزاروں سال سے یورپی لوگوں کی مرغن غذا رہی ہے ۔ریسرچر نے اسپین سے لیتھوانیا تک متعدد مقامات پر انسانی دانتوںکے واضح آثاردریافتکرلئے جو تقریبا 6400 قبل مسیح سے لے کر ابتدائی درمیانی عمر تک پھیلے ہوئے ہیںیہ دریافت حیرت انگیز ہے۔ 18ویں صدی تک اسے قحط کی خوراک سمجھا جاتا تھا۔سی ویٖڈ کو مغربی کھانوں میں ایک غیرمعمولی جزو سمجھا جاسکتا ہے جو کسی فینسی باورچی خانے کی کتاب یا مقامی پکوان میں شامل ہوتا ہے۔ لیکن اب یہ پتہ چلا ہے کہ ، ’سی ویڈ کے کھانے پینے کی چیز ہونے کا تصور یورپ میں بالکل بھی سامنے نہیں آیا‘۔اس تحقیق کی شریک مصنفہ اور یونیورسٹی آف گلاسگو میں آثار قدیمہ کی پروفیسر کیرن ہارڈی کا کہنا ہے کہ مبابق یہ بائیومارکر دانتوں کے کیلکولس کے اندر سے آئے تھے
اس لیے یہ واضح ہے کہ وہ اسے چبا نہیں سکتے تھے۔رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ اجنوبی اسپین سے شمالی اسکاٹ لینڈ تک یورپ بھر کے 28 آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے 74 افراد کی باقیات سے ڈینٹل کیلکولس یا ٹارٹر کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا جو تقریبا 6400 قبل مسیح سے 12 ویں صدی عیسوی تک کے ہیں۔مجموعی طور پ ان میں سے 33 افراد کے 37 نمونوں میں بائیومارکر پائے گئے جس سے ٹیم کو معلوم کرنے کی اجازت ملی کہ انہوں نے کیا کھایا تھا، 26 نمونوں میں سی ویڈ اور پونڈویڈ جیسے کھانے کے استعمال کی نشاندہی کرنے والے کیمیکل شامل تھے۔انہوں نے کہ ایک نمونے نے سی کیل(sea kale) کی نشاندہی کی، یہ ایک پودا ہے جسے سیلرزکیلئے اسکروی کے علاج کے طور پرلکھا گیا ہے۔ٹیم اس سی ویڈ کے رنگ کی شناخت بھی کرسکتی ہے جو کھایا گیا تھا، مثال کے طور پرایسا لگتا ہے کہ سرخ سی ویڈ کو اسبیسٹراورکنی میں وسط سے آخر نیو لیتھک (3200-2800 قبل مسیح) سائٹ پر کھایا گیا تھا۔محققین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ یورپ میں اس طرح کی غذائیں شاذ و نادر ہی کھائی جاتی تھیں لیکن یہ خوراک کا حصہ تھیں۔یہ واضح نہیں کہ سی ویڈ خوراک کے طور پر کتنا اہم تھا لیکن محققین کا کہنا ہے کہ اسے باقاعدگی سے اگایا جاسکتا تھا ، جس طرح مشروم اور شیل فش آج بھی کھانے کے دیگر ذرائع کو پورا کرنے کے لیے جمع کیے جاتے ہیں۔ تاہم آہستہ آہستہ یہ مینو سے غائب ہو گیا اور قحط کا کھانا یا جانوروں کا چارہ بن گیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں