جنات کا ہونا ایک حقیقت ہے،سعدیہ امام

جنات کا ہونا ایک حقیقت ہے،سعدیہ امام

پاکستانی معروف سینئر اداکارہ سعدیہ امام نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ناصرف جنات سے باتیں کرتی ہیں بلکہ اُن کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی بھی دیکھتی ہیں۔اداکارہ سعدیہ امام نے حال ہی میں نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں بطور مہمان شرکت کی۔شو کے دوران سعدیہ امام سمیت شو کے دیگر مہمانوں نے بھی جنات سے متعلق اپنے تجربات پر بات کی۔اداکارہ سعدیہ امام کا کہنا تھا کہ جنات کا ہونا ایک حقیقت ہے، یہ ہمارے ارد گرد پائے جاتے ہیں اور یہ ہم سے بات چیت بھی کرتے ہیں، جنات سے انکار کرنا حقیقت نہ ماننے کے مترادف ہے۔اداکارہ نے شو کے دوران اپنے تجربات سے متعلق ناظرین کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک بار متحدہ عرب امارات شوٹنگ کے لیے گئی تھیں، اس دوران جنات نے صبح سویرے اُن پر حملہ کر دیا، وہ سو رہی تھیں کہ اچانک کسی نے ان کی ٹانگیں پکڑ لیں۔
ان کا کہنا ہے کہ میں نے اس خوفناک صورتِ حال میں قرآنی آیات کا سہارا لیا، قرآنی آیات پڑھ کر پھونکیں جس کے بعد ٹانگیں تو آزاد ہو گئیں مگر کمرے کی تمام لائٹس ہلنے لگیں اور کمرے کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔
سعدیہ امام نے کہا کہ اسی دوران مجھے میرے مرشد کا فون آیا، جنہوں نے مجھ سے خیریت دریافت کی، میں اپنے مرشد کا فون آنے پر حیران ہوئی کہ اِنہیں کیسے پتہ چلا کہ یہاں کیا ہوا ہے۔شو کے دوران سعدیہ امام کا کہنا تھا کہ میں بچپن سے ہی کافی بہادر تھی، میرے والدین نے کبھی جنات سے ڈرنا ہی نہیں سکھایا بلکہ وہ تلقین کیا کرتے تھے کہ اس مخلوق کا خیال رکھا کرو۔سعدیہ امام نے اپنے تجربات پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میں اپنے گھر میں جنات سے باتیں کرتی ہوں، جب کمرے میں بیٹھی ہوتی ہوں تو کچن سے برتنوں کی آوازیں آتی ہیں، جنات کو زور سے آواز لگا کر کہتی ہوں کہ کچن استعمال کرنے پر پابندی نہیں ہے لیکن اسے گندا نہیں کرنا اور صفائی کا خیال رکھنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اکثر اوقات جب صبح سویرے سو کر اٹھتی ہوں تو کچن میں گندگی نظر آتی ہے، ملازم سے پوچھنے پر جواب ملتا ہے کہ ہم نے تو چائے نہیں بنائی آپ اُنہی سے پوچھیں جن سے آپ باتیں کرتی ہیں۔سعدیہ امام نے دعویٰ کیا کہ اکثر اوقات جب میں ٹی وی دیکھ رہی ہوتی ہوں تو اس دوران میرے پاس کوئی نہ کوئی آ جاتا ہے جس پر میں اُنہیں ساتھ بیٹھ کر ٹی وی سیریل دیکھنے کی دعوت بھی دیتی ہوں۔اداکار کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیوں کہ میں جنات سے باتیں کرتی ہوں اس لیے کچھ لوگ مجھے پاگل بھی قرار دیتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں