جان کو خطرہ ہونے پر ویڈیو ریکارڈکرادی جس میں سب سازشیوں کے نام ہیں، عمران خان

سیالکوٹ: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میرے خلاف بند کمروں کے اندر سازش ہورہی ہے کہ عمران خان کی جان لے لی جائے، اس سازش کا مجھے پہلے سے پتا تھا ، میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ ویڈیو پوری قوم کے سامنے آئے گی۔ اس ویڈیو میں سب سازشیوں کے نام ہیں۔

سیالکوٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اللہ تیری عبادت اورتیرے سے مدد مانگتے ہیں، کسی انسان اورکسی سپرپاورکے سامنے ہم نہیں جھکتے، ہم دنیا کے سب سے عظیم لیڈرکی امت ہے۔ نوازشریف جتنے بزدل تم اتنی ہی تمہاری پارٹی ہے، ہماری حکومت نے ایک دفعہ بھی ان کے جلسے، لانگ مارچ روکنے کی کوشش نہیں کی،ہرتین ماہ بعد یہ ہماری حکومت گرانے آتے تھے،تمہارے ساتھ ملک کی بڑی بیماری زرداری بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ میرے خلاف بند کمروں کے اندر سازش ہورہی ہے کہ عمران خان کی جان لے لی جائے، اس سازش کا مجھے پہلے سے پتا تھا ، میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ ویڈیو پوری قوم کے سامنے آئے گی۔ حکومت نے سازش کر کے ہمیں بڑے میدان میں جلسہ نہیں کرنے دیا، نواز شریف بزدل ہے، جس نے زندگی میں کوئی ایک کام ایمانداری سے نہیں کیا۔

چیئر مین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اپنی بیماری کی ایسی اداکاری کی کہ لگتا تھا ابھی مرجائے گا ، مگر جیسے ہی انہوں نے جہاز کی سیڑھیاں دیکھیں تو فوراً اس میں جاکر بیٹھ گئے۔ شریف اور زرداری خاندان نے تیس سال حکومت کی، ہمیں صرف ساڑھے تین سال اقتدار ملا، شہباز شریف کہتا ہے، پاکستانی بھکاری ہیں، اس لیے انہیں امریکی غلامی کرنی پڑےگی۔

انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف پر تنقید کرتے ہوئے انہیں خواجہ وینٹی لیٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کو وینٹی لیٹر پر تم نے ڈالا ہے ، ہم نے تو صرف ساڑھے تین سال ملک میں حکومت کی ، تم لوگ یہاں سے پیسہ لوٹ لوٹ کر باہر لے گئے ہو۔ آج تک دنیا کی تاریخ میں کبھی کوئی انقلاب کو نہیں روک سکا، یہ سیاست نہیں ہورہی یہ انقلاب آرہا ہے، اور اسے نہ نواز شریف روک سکتے ہیں ، نہ شہباز شریف ، نہ ان کا بیٹا روک سکتا ہے، نہ ہی وزیر داخلہ روک سکتا ہے ، اس انقلاب کو اب دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ جب ہم اسلام آباد پہنچیں گے تو پر امن رہیں گے ، اگر تم نے روکنے یا انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو تمھیں پورے پاکستان میں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

عمران خان نے کہا کہ بتانا چاہتا ہوں کہ حکومت 2 دن پہلے انٹرنیٹ، ٹرانسپورٹ اور پٹرول بند کردے گی، اس لئے پہلے ہی تیاری کرلیں، وزیراعظم، وزیردفاع اور وزیر داخلہ تیار ہوجاؤ عوام کا سمندر اسلام آباد آنے والا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں عدلیہ سے عاجزی کے ساتھ سوال کرتا ہوں ، کہ میں کیا بہت خطرناک ہوں جو ملک سے غداری کرنے جارہا تھا کہ آپ نے رات بارہ بجے عدالتیں کھول دیں۔ میرا معصومانہ سا سوال ہے کہ شہباز شریف ، ان کے بیٹے حمزہ اور سلمان شہباز پر 24 ارب روپے کے کیسز ہیں، 24 ارب کا مطلب دو ہزار چار سو کروڑ روپے کی کرپشن کے ان لوگوں پر کیسز ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 2004کے بعد ہمارے دورمیں سب سے زیادہ صنعتی پیداوارہوئی، یہ جنون قیمے والے نان کھلا کرنہیں خریدا جاسکتا، یہی جنون اسلام آباد کے اندر انقلاب لائے گا جو حقیقی آزادی دلائے گا، ہماری حکومت میں 29 فیصد ایکسپورٹ بڑھی، ہماری حکومت میں سب سے زیادہ پیسہ کسانوں کو ملا، برصغیر میں سب سے زیادہ روزگار پاکستان میں ملا، معاشی گروتھ 6 فیصد ریکارڈ ہے، جب سے یہ چورآئے ہیں روپے کی قدرکم ہورہی ہے، سٹاک مارکیٹ نیچے کی طرف جارہی ہے، اب بلاول امریکا جا کر بھیک مانگے گا، امریکیوں کو بلاول کے تمام اثاثوں کا پتا ہے، امریکیوں کوپتا پے نوازشریف کی طرح بلاول نے پیسہ کدھر چھپایا ہوا ہے، تحریک پاکستان کی طرح یہ میرے اورآپ کے لیے بھی جہاد ہے، زندگی، موت، رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے ڈرنا نہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میری طرح آپ کو بھی کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے، انشا اللہ اسلام آباد میں ملاقات ہو گی، عثمان ڈار، عمر ڈار کو ڈاکوؤں کا مقابلہ کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، عثمان ڈاراسلام آباد آتے ہوئے کسی چیزسے نہ گھبرانا۔

ان کا کہنا تھاکہ آج اپنی عدلیہ سے بڑی عاجزی سے ایک سوال پوچھ رہا ہوں، بڑا اچھا کیا اتوار کو آپ نے از خود نوٹس لے لیا، آپ کو عمران خان سے کوئی بڑا خطرہ ہوگا، 12 بجے عدالتیں کھول دیں چلیں ٹھیک ہے، میں بہت خطرناک اور ملک سے کوئی بڑی غداری کرنے جا رہا تھا کہ رات کے 12 بجے عدالتیں کھول دیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنی عدلیہ سے بڑی عاجزی سے پوچھتا ہوں کہ بڑا معصومانہ سا سوال ہے کہ شہباز شریف اور اس کا بیٹا حمزہ شہباز اور مفرور بیٹا سلمان شہباز پر ایف آئی اے کے 24 ارب روپے کے کیسز ہیں۔ میرا ڈاکٹر رضوان کو سلام پیش کرتا ہوں، جو ایف آئی اے کا ایک زبردست افسر، جس میں دلیری تھی، جس نے شریف مافیا کے خلاف کارروائی کرکے، مقصود چپراسی اور نوکروں کے بینک اکاؤنٹ پر 16 ارب روپے پکڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ پھر کیا ہوا، ڈاکٹر رضوان کے اوپر دباؤ ڈالا گیا، حمزہ شریف نے اس کو دھمکیاں دیں اور وہ ڈاکٹر رضوان شدید دباؤ میں تھا، اس کو دل کا دورہ پڑا اور مرگیا۔ دوسرا افسر جو شہباز شریف کے ایف آئی اے کے کیس کی تفتیش کر رہا تھا، اس کا نام ندیم اختر تھا، اس کو کل دل کا دورہ پڑا، یہ کیسے ہے جو مافیا کی تفتیش کرتا ہے، ان کے اوپر کس طرح کا دباؤ ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ کدھر ہیں میری عدالتیں، ان کی حفاظت کرنا آپ کا کام ہے، کون آگے سے اس ملک کے کون سے سرکاری نوکر، کون سی ایف آئی اے، کون سی ایف بی آر، کون سے پولیس افسر کبھی بھی آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس ملک کے ادارے کیسے طاقت ور مجرموں کے سامنے کھڑے ہوں گے، اپنی عدلیہ سے سوال پوچھتا ہوں کون اس ملک کے اداروں کی حفاظت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں بڑی عاجزی سے اپنی عدالتوں سے پوچھتا ہوں کہ یہ آپ کے سامنے ہمارے ملک کی تباہی ہو رہی ہے، جب ادارے ختم ہوتے ہیں تو ملک تباہ ہوجاتا ہے۔ میں اگلا سوال پوچھتا ہوں کہ یہ جو ہمارے جیلوں میں چھوٹے چور بھرے ہوئے ہیں، کیا ان کا یہ قصور ہے کہ وہ چھوٹے چور ہیں، کیا یہ سبق مل رہا کہ ملک میں ڈاکا مارو تو بڑا ڈاکا مارو نہیں تو جیل چلے جاؤگے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے ان کو نہیں پکڑنا تو میں کہتا ہوں کہ پاکستان کے جیل کھول دیں، ان غریبوں کو باہر نکالیں، ان غریب چوروں کی پوری چوری ملا کر وہ ایک مقصود چپراسی کے بینک میں جو 4 ارب آئے تھے وہ کم ہے۔

قبل ازیں سیالکوٹ کے سی ٹی آئی گراؤنڈ میں انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان کو بغیر اجازت جلسے کے انتظامات کرنے سے روک دیا تھا۔تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کی بغیر اجازت تیاریاں رکوانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری جلسہ گاہ پہنچ گئی اور گراؤنڈ کا گھیراؤ کرلیا۔

جلسہ گاہ میں پولیس بھاری مشینری کے ساتھ گراؤنڈ کی اکھاڑ پچھاڑ کرنے لگی، سامان ہٹائے جانے پر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے مزاحمت کی گئی۔پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار مشینری کے آگے اپنے کارکنان سمیت لیٹ گئے، انہوں نے کہا کہ یہ مشینری ہمارے اوپر سے گزرے گی۔

پولیس کی جانب سے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی، ٹیلی ویژن فوٹیج میں پولیس اہلکار گراؤنڈ میں موجود نظر آئے، پولیس کی جانب سے ریلی کی تیاری کے لیے بنائے گئے اسٹیج کو گرائے جانے سے روکنے کی کوشش کے لیے کچھ لوگ ایک اسٹیشنری کرین کے اوپر کھڑے تھے، فوٹیج میں آنسو گیس کا دھواں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سیالکوٹ کے سی ٹی آئی گراؤنڈ میں آج ہونے والے جلسے کا مقام تبدیل کردیا تھا۔

سیالکوٹ میں پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ سیالکوٹ میں آج جو کچھ ہوا ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں، سیالکوٹ کے عوام بپھرے ہوئے ہیں، ہم پرامن طریقے سے اپنا حق استعمال کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر آپ نے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے تو ہمیں پہیہ جام اور لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔ ہم نے پہلے بھی آپ کو کہا تھا اب دوبارہ کہہ رہے ہیں کہ ہوش کے ناخن لیں، کل دوپہر ساری چیزیں طے ہوگئی تھیں لیکن رات کے 3 بجے جس طرح تشد کیا گیا اور نہتے لوگوں کو مارا پیٹا گیا وہ شرم کا مقام ہے لیکن یہ ہمیں روک نہیں سکتا، جلسہ بہر صورت ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ میں جلسہ وی آئی پی کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگا، جلسے کے تمام شرکا وی آئی پی کرکٹ گراؤنڈ میں آئیں اور اپنے جمہوری حق کا اظہار کریں، اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے، انتظامیہ کو کہتا ہوں کہ فوری طور پر عثمان ڈار کو رہا کیا جائے، یہ طریقہ قابل قوبل نہیں ہے۔

شفقت محمود نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہماری حکومت بحال کریں لیکن عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے، ناجائز حکومت کے پاس اس وقت اور کوئی حل نہیں ہے، 5 ہفتوں میں آنیاں جانیاں تو بہت ہوئیں لیکن نتیجہ صفر ہے، یہ محض اپنے کیس صاف کرنے میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوری الیکشن کروائے جائیں تاکہ نئی حکومت فریش مینڈیٹ لے کر آئے پھر اس کے پاس وقت بھی ہوگا اور مسائل کے حل کا اختیار بھی ہوگا لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا تو بحران مزید سنگین ہوگا، یہ بحران تشدد اور شیلنگ سے ختم نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عثمان ڈار اور عمر ڈار کو رہا کیا جائے اور پرامن جلسہ ہونے دیا جائے ورنہ جو بھی نتائج ہوں گے اس کی یہ حکومت ذمہ دار ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے جتنے بھی اعتراضات لگائے گئے ہمیں پتا ہے کس کے اشارے پر لگائے گئے، ہمیں معلوم ہے کہ خواجہ آصف وہان سے بیٹھ کر اشارے دے رہا تھا، اس کے کہنے پتر یہ سب ہوا ہے ورنہ اس سے پہلے بھی وہاں تقریبات ہوتی رہی ہیں۔

اس موقع پر شفقت محمود کے ہمراہ موجود پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری نے رانا ثنا اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج اس پریس کانفرنس کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر حامد رضا، عمر ڈار اور عثمان ڈار کو رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف اس وقت تک پرامن رہیں گے جب تک تم ہمیں پرامن رہنے دو گے، سیالکوٹ کی زمین پر عمران خان کے قدم پڑنے سے پہلے سیالکوٹ کے سپوتوں کو رہا کیا جائے ورنہ میں اعلان کروں گا کہ سارا جسلہ اس جانب چل پڑے جہاں ان لوگوں کو رکھا گیا ہے، اس کا ہدف انتظامیہ ہوگی اور ہم اپنے ساتھیوں کو رہا کروا کر چھوڑیں گے۔

دریں اثنا پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے سیالکوٹ واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کوئی شک میں نہ رہے، میں آج سیالکوٹ جاؤں گا، امپورٹڈ حکومت نے ہماری قیادت اور کارکنان کے خلاف سیالکوٹ میں جو کچھ کیا وہ اشتعال انگیز ضرور ہے مگر غیر متوقع ہرگزنہیں، ضمانت پررہا مجرموں کےاس ٹولے اور لندن میں مقیم ان کے عدالت سے سزا یافتہ قائد نے ہمیشہ اپنےمخالفین کے خلاف فسطائی حربے استعمال کئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی اقتدار ملتاہے سپریم کورٹ پر چڑھائی، ماڈل ٹاؤن میں قتلِ عام، ججوں کو رشوت دینےاور نواز شریف کی جانب سے خود کو امیر المومنین قراردیے جانے جیسی حرکتیں کرتےہیں، اپوزیشن میں جمہوریت کامنفی استعمال، حکومت میں جمہوری اقدار کا جنازہ نکالتےہیں، مگرلوگ اب ان کے خلاف کھڑے ہوچکے ہیں۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری حکومت نےکبھی ان کا کوئی جلسہ، دھرنا یا ریلی وغیرہ نہیں روکی کیونکہ ہم جمہوریت سےمخلص ہیں، میں آج سیالکوٹ میں ہوں گا اور اپنے تمام لوگوں کو ہدایات دے رہا ہوں کہ باہر نکلیں اور بعد از نمازِ عشا اپنے شہروں/علاقوں میں اس فسطائی امپورٹڈ حکومت کے خلاف احتجاج کریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں