بجلی کے ظالمانہ بل،شہریوں کے غیر مساوی استحقاق

بجلی کے ظالمانہ بل،شہریوں کے غیر مساوی استحقاق
    اصلاح اوپر سے نیچے چاھئے  - 
جس ( ر) سید منظور گیلانی 
بجلی بلوں کے خلاف راولاکوٹ سے  شروع ہونے والی تحریک ملک گیر بن گئ ہے ، اس جاگرتی  پر پوری قوم بلخصوص راولاکوٹ کے لوگ  مبارک باد کی مستحق ہیں  - راولا کوٹ بے شک آزاد کشمیر کی ریڑ کی ہڈی ہے اور ریڑھ کی ہڈی کا سب کو ادراک ہوگا- 
 تیسری دنیا کے ملکوں  میں  حکومتیں اپنی زمہ داری سمجھ  کر عوام کی سہولتوں اور انسانی حقوق  کا اس وقت تک خیال نہیں  کرتیں جب تک عوام سڑکوں پر نہ آجائیں  اور دو تین قتل نہ ہوجائیں - اس سے پہلے کہ آزداد کشمیر سمیٹ  پورے ملک میں ایسا کوئ نا خوشگوار واقعہ ہوجائے ، اچھا ہوگا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور اس  معاملے کا حل نکالے -
   ملک اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے ۔ ظاہر ہے اس کو قوم کی مدد سے ہی نکالا جا سکتا ہے جس کے لئے کوئ کار آمد اور قابل عمل پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جو منصفانہ بھی ہو اور مساویانہ  بھی - 

اس وقت عوام کے جائز غیض و غضب کا شکار  وہ سرکاری عہدے داروں  جن میں حاضر سروس اور ریٹائیرڈ ججز ، جرنیل ، بیرو کیسی کے سرخیل ، سیاسی عہدوں کے حامل صدر، وزیر اعظم ، وزراء   ، ممبران اسمبلی اور دیگر اشرافیہ ہے جو دوران عہدہ بھاری بھرکم تنخواہ ، اس کے ساتھ بے شمار فوائید ،  پٹرول، بجلی ، گیس اور کئ مراعات ہیں ، جو ریٹائیر منٹ کے بعد بھی حاصل رہتی ہیں جن پر سرکاری خزانے سے اربوں روپے کی  ادائیگی کی جاتی ہے  - اس پر  عوام کا غصہ حق بجانب ہے - ان پر قابو پانے سے بہت فرق پڑ جائیگا -

 آزاد کشمیر  ہی نہیں بلکہ پاکستان بھر کے صارفین سے  بجلی  کے اصل بل پر  کئ گنا ٹیکس لگا کے  زیادہ رقم چارج کی جاتی ہے -مثال کے طور اگر بجلی کے صرف شدہ ایک یونٹ کی قیمت  اکیس روپے ہے اس پر مختلف ناموں سے ٹیکس لگا کر پچاس روپے لئے جاتے ہیں - کیوں ؟ اتنا ظلم کیوں ؟ ایک تنخواہ دار شخص  کی تنخواہ پر سورس پر ٹیکس لگ جاتا ہے  ، جس کے بعد  باقی  رقم اس کا زاتی اثاثہ ہے،  وہ ویسی ہی پاک صاف ہوجاتی ہے جیسے زکوات کا ادا شدہ مال ہوتا ہے - اس پر  حکومت کو مزید ٹیکس لگانا انتئائ درجہ کی نا انصافی ہے - اس تنخواہ سے وہ جو بجلی ، پٹرول یا گیس یا کوئ اور ضرورت کی چیز خریدتا ہے  وہ ٹیکس کی  ادا شدہ بچی ہوئ  رقم  سے لیتا ہے ، اس پر دوبارہ تیکس کیوں ؟  حکومت کو اس multiple taxation   کو ختم کرنا چاھئے -       اس کے لئے میری تجویز ہے کہ بلا تخصیص عہدہ جج ، جرنیل ، بڑے چھوٹے بیوروکریٹس ، عہدے پر موجود یا سابقہ صدور ، وزیر اعظم اور یہ سہولتیں پانے والے دیگر لوگوں کی مراعات کو فی الفور نصف اور اس کے بعد بتدریج ہر بجٹ سال کے ساتھ  ختم کیا جائے - اس کی ابتداء حاضر سروس اور ریزتسئیرڈ  ججز ، جنرلز ، سیکریٹریز اور اس طرح کے دوسرے لوگووں سے شروع کی جائے -
         بجلی کی چوری پر کنٹرول کر نے کے لئے  موبائل کی طرح پری پیڈ (pre paid ) بل سسٹم لاگو کیا جائے-  جس صارف کی جتنی ضرورت ہو اتنی یونٹ خریدے اور استعمال کرے جس کے صرف شدہ یونٹس کی روزانہ کی بنیاد پر اس کو موبائل الرٹ کے زریعہ اطلاع بھی  دی جائے - یہ سسٹم دنیا کے کئ ملکوں بشمول ہندوستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں بھی نافذ ہے -
       اس چوری پر مزید چیک کے لئے بجلی کے گر ڈ یا distribution کے سنٹر پر کنٹرول روم بنایا جائے  جہاں سے ہر صارف کے گھر کو مانیٹر کیا جائے کہ وہ کونڈا یا کسی دیگر طریقے سے گھر میں بجلی چوری تو نہیں کر رہا کیونکہ پاکستان اور ہندوستان کے لوگ اس میں ماہر ہیں - 
           اکثر چوری لائن مینز اور میٹر ریڈرس کی ملکی بھگت سے ہوتی ہے جو صارف سے ماہوار دو تین ہزار روپے لیکر  اس  نہ معلوم کیسے کم سے کم یونٹس کا استعمال دکھاتے ہیں اور ایسے صارفین کی گھر سردیوں گرمیوں میں  اے سی اور کھانے پکانے کے لئے بیٹر س کا استعمال ہوتا- مجھے  خود  کئ ایسے گھروں میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں گرمیوں میں جنوری فروری اور سردیوں میں جون جولائ کا احساس ہوا -
             تمام سرکاری دفاتر اور سرکاری رہائشوں گاہوں بشمول کنٹونمنٹس پر برابر کا سلیب اور ایک طرح کا ما نیٹرنگ سسٹم رائج کیا جائے ، مفت بجلی کا تصور ہی ختم کیا جائے -
         بجلی کی سارے نظام کی نگرانی بجلی اور پاور پرو ڈکشن کے ماہرین کے سپرد ہونا چاھئے ، کسی جرنیل ، جج یا بیرو کریٹ کا اس کے ساتھ کوئ تعلق نہیں ہونا چاھئے ، اگر کوئ ہو بھی تو وہ ماہر انجینئیر کے ماتحت کام کرے  - آج تک یہ لوگ باس بنے رہے کوئ نتیجہ بر آمد نہیں ہوا ، اب ورکر بن کر ماہر کے ماتحت کام کریں جیسا ساری دنیا میں ہوتا ہے - 
    اس سلسلے میں آزاد کشمیر اور صوبہ سر حد کا معاملہ زرا مختلف بھی ہے - یہاں  سے ہزاروں میگا واٹ  بجلی ہائیڈرو الیکٹرک  ہے  - اس کو  نیشنل گریڈ میں منتقل کر کے  تھرم جنریشن کے ساتھ پول کر لیا جاتا جس کی بعد  اوسط مالیت کے حساب سے فروخت ہوتی ہے - تھرمل پاور پرو جیکٹ کی لاگت بہت زیادہ ہے جبکہ ہائئڈرل کی اس سے 95 فیصد کم ہے -  
          ہائیڈرل سے پیداکرنے  والے صوبوں کی اپنی ضررورت کی بجلی کا اتنا حصہ ان کو وہاں پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت ،  جس میں بے شک انتظامی اخراجات بھی شامل ہو ، اس کی پیداواری لاگت کے مطابق ان کو دی جائے ، باقی حصہ نیشنل گرڈ میں ملادیا جائے - اگر ان کی ضرورت  اس زیادہ ہو تو وہ نیشنل گر ڈ کی قیمت پر خریدیں -  
      آزاد کشمیر کا معاملہ صوبہ سرحد سے اور بھی زیادہ مختلف - یہ نہ پاکستان کا صوبہ ہے نہ ہی  پاکستان کے آئین کی دفعہ 153 کے  تحت کونسل آف کامن ان ٹرسٹ ، دفعہ 156 کے تحت نیشنل اکنامک کونسل ، دفعہ 160 کے تحت فائنانس کمیشن کا اور نہ ہی دفعہ 161 کے تحت گیس اور ہائیڈرو پاور  کا ممبر ہے اور نہ ہی منگلہ پاور پروجیکٹ کے علاوہ آزاد کشمیر میں کسی پروجیکٹ کے قائم کرنے اور وہاں کی بجلی نیشنل گر ڈ میں جمع کرنے پر تحریری معاہدہ کیا ہے  نہ ہی  مبینہ طور اجازت ، جس میں  نیلم جہلم  اور دیگر پاور پراجیکٹس بھی شامل ہیں - اس طرح یہ سارا نظام  پاکستان کے آئین   کی ان ساری دفعات  کی خلاف ورزی ہے - پاکستان آزاد کشمیر کو اپنا حصہ بھی نہیں مانتا لیکن یہاں پر اس کی باقی صوبوں کے مقابلے میں زیادہ سخت گرفت بھی ہے  جو مقامی حکومتوں کے تعاون سے ہی ہے لیکن یہی حکو متیں لوگوں کو اس عمل کے خلاف اکساتے بھی ہیں - میں اس کو  Neo Colonialism سمجھتا ہوں جہاں مقامی حکومتوں کی مدد سے ہم خیال غیر ملکی حکومت وسائل استعمال میں لاتی ہے جن پر اطلاق اس حکومت کے قانون اور انتظامیہ کا ہوتا ہے -اس طرح یہ آزاد کشمیر کے لوگوں کے حقوق پر کم از کم الفاظ میں ڈاکہ ہے جس میں مقامی حکومت معاون کا کام کرتی ہے -اس کا ادراک اور ازالہ کرنا حکومت پاکستان کے اپنے مفاد اور زمہ داری میں ہے- لوگ اگر اس عمل کے خلاف ہوئے تو مقامی حکومت سمیت کوئ لوگوں کے غیض و غضب سے نہیں بچ سکتا -پاکستان کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو کسی نہ کسی طریقہ سے اپنے آئینی نظم میں لانا پڑے گا اور یہاں کی لیڈر شپ اگر پاکستان کے ساتھ مخلص ہے تو ان کو ایسا کرنا پڑے گا - وگرنہ بے خصمی زمیں پر جو بھی قبضہ کرے گا اسی کی ہوگی  - 
    مختلف رعیائیتوں ، سہولتوں اور استحقاق کے حامل جو جوگ آزاد کشمیر کے حدود سے باہر رہتے ہوں ان سے یہ سہولتیں واپس لی جائیں کیونکہ بیرون از آزاد کشمیر ان کی زمہ داری آزاد حکومت پر عائید نہیں ہوتی -  
    اس وقت قوم ایک بحران کا شکار ہے - دور رس اصلاحات کے اقدامات کی ضرورت ہے - یہ عیاشی دنیا کے کسی کونے میں کسی اتھارزتی کو حاصل نہیں - یہ موقع ہے کہ ایسے اقدامات اٹھا کے ریاست کو اس خورد سے بچایا جائے اور اس بچت کا فائیدہ بلا تخصیص عام آدمی تک بھی پہنچایا جائے -
 
             بازار سے جو شخص بھی اشیاء خریدتا ہے اس کا بھی یقینآ آمدن کا کوئ زریعہ ہوگا، جیسے چھوٹے بڑے تاجر ، دکاندار ، ڈاکٹر ، وکیل   ، کار خانہ  دار،  زمیندار اور کمائ کے دیگر زرائع والوں کو ٹیکس نٹ ورک میں لاکر ان  کو بھی ایسے ہی پراسس کا حصہ دار بنایا جائے - پرائیوٹ پریکٹس کرنے والے اسی فیصد پیشہ ور لوگ ٹیکس نٹ ورک پر نہیں ہیں ، اس طرح ان کو اس میں لایا جائے تاکہ سب لوگوں کے ساتھ مساوانہ سلوک ہو اور وہ بھی اس فنڈ میں میں حصہ ڈالیں جس سے تعمیر و ترقی کے تھوڑے بہت کام ہورہے ہیں -
        ہر گلی محلے اور بڑے شہر اور مال کے دکاندار کو اس کی دکان کی مالیت کے مطابق ٹیکس نٹ ورک میں لایا جائے بھلے وہ سالانہ ایک ہزار روپے سے ہی کیوں نہ شروع کریں-
      اسی طرح سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو نظم کے تحت لاکر ان کا ایک پول مقرر کیا جائے جس میں سے  ہر سطح کی سرکاری اتھار ٹی  کو سرکاری ڈیوٹی کے لئے اس انتظامی شعبے کے پول سے گاڑی استعمال کے لئے فراہم کی جائے جس کے بعد اس کو واپس پول میں جمع کردیا جائے  - اس میں کسی بڑے، چھو ٹی عہدے کی کوئ تخصیص نہیں ہونا چاھئے - اگر کسی صاحب کو  اپنے زاتی استعمال کے لئے گاڑی چاھئے ہو وہ مروجہ ریٹس پر حاصل کر سکتا ہے -
  اس کا متبادل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حسب استحقاق متعلقہ سرکاری اتھارٹی کو گاڑی استعمال کے لئے فروخت کردی جائے جو آسان قسطوں میں اس کی قیمت ادا کرے  جس کو سرکاری ڈیو ٹی پر استعمال کے لئے اس کا پٹرول دیا جائے تاہم  اس گاڑی کی مرمت وغیرہ کی زمہ داری اسی کی ہوگی - 
         عوامی عہدہ رکھنے والے سابق  صدر، وزیر اعظم ، اسمبلی کے ممبران  میں سے صرف ان کو گاڑی، پنشن اور دیگر سہولتیں دی جائیں جو  سیاست سے مکمل ریٹائیر ہوجائیں اور دوبارہ کسی عوامی عہدے کے امید وار نہ ہوں ، جو ان سہولیات کے باوجود سیاست کرتے ہوں ان سے یہ سہولتیں واپس لی جا ئیں - 

    مختلف رعیائیوں ، سہولتوں اور استحقاق کے حامل جو جوگ آزاد کشمیر کے حدود سے باہر رہتے ہوں ان سے یہ سہولتیں واپس لی جائیں کیونکہ بیرون از آزاد کشمیر ان کی زمہ داری آزاد حکومت پر عائید نہیں ہوتی -  
   اسی طرح کئ بڑے سرکاری عہدے دار گاڑیوں کا ایک قافلہ لیکر سفر کرتے ہیںُ- آگے پیچھے پولیس کی کی گاڑیاں ، ان پر اٹھنے والے اخراجات، ان کے ساتھ ڈیوٹی دینے والی پولیس کے سفری اخرات جن کو عرف عام میں TA - DA کہتے ہیں بھی لاکھوں نہییں  بلکہ کروڑوں میں آتے ہیں ، ان پولیس کی کی گاڑیوں کی ہا ئو کار لوگوں کو خوف زدہ کر دیتی ہے - اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے حدود سے باہر یہ کیول کارڈ عہدے کا غلط استعمال بھی ہے جو ریاست کی بدنامی  ہے -پاکستان بھر سے اکثر  لوگ آزاد کشمیر آ تے  ہیں لیکن ایسا تماشا وہ نہیں لگاتے - اس ناجائز اصراف پر کنٹرول کرنے کی زضرورت ہے - 
    اس وقت قوم ایک بحران کا شکار ہے -  غصے میں ہے - خو د کشتیاں ہورہی ہیں - جس کے بعد خانہ جنگی ہوگی - اس لئے ایسا وقت آنے سے پہلے دور رس اصلاحات اور اقدامات کی ضرورت ہے - یہ عیاشی دنیا کے کسی کونے میں کسی اتھارٹی  کو حاصل نہیں - یہ موقع ہے کہ ایسے اقدامات اٹھا کے ریاست کو اس خورد برد  سے بچایا جائے اور اس بچت کا فایدہ بلا تخصیص عام آدمی تک  پہنچایا جائے -
50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں