بلوچستان،پاکستان کا معاشی مستقبل

تحریر: قاضی سمیع اللہ

کیا بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ”پسماندگی“ ہے یا پھر کچھ اور مسئلہ ہے جو بیان نہیں کیا جاتا۔ اس بحث سے ہٹ کر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ”سماجی و معاشی“ نوعیت کا ہے جس سے اس صوبہ کی پسماندگی اور محرومیاں جڑی ہیں اگرچہ بلوچستان کی محرومیوں کا حل ”سیاسی و عسکری انداز“ میں نکالے جانے کی کوششیں ہوتی رہیں ہیں۔

بلوچستان جو رقبہ کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو تین لاکھ 47 ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر محیط ہے لیکن اس کا زیادہ تر رقبہ پہاڑوں اور ریگستانوں پر مشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کی بیشتر اراضی بنجر پڑیں ہیں جس کی ایک بڑی وجہ پانی کی فراہمی کے محدود وسائل کا ہونا ہے تاہم اس کے باوجود بھی بلوچستان میں کسی حد تک زراعت ہوتی ہے جبکہ پہاڑوں اور ریگستانوں سے بھر پور یہ خطہ ”قدرتی وسائل“ سے مالا مال ہے۔

اس ضمن میں مختلف رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے اس پسماندہ ترین صوبہ بلوچستان میں 40 سے زائد معدنی ذخائر پائے جاتے ہیں جن میں تیل، گیس، سونا، تانبا، یورینیئم، کولٹن، خام لوہا، کوئلہ، انٹی مونی، کرومائٹ، فلورائٹ، یاقوت، گندھک، گریفائٹ، چونے کا پتھر، کھریا مٹی، میگنائٹ، سوپ سٹون، فاسفیٹ، درمیکیولائٹ، جپسم، المونیم، پلاٹینم، سلیکاریت، سلفر، لیتھیم سمیت دیگر قیمتی دھاتیں شامل ہیں۔

اسی طرح ریکوڈک میں تانبے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں جن میں 5.9 بلین ٹن تک خام تانبا موجود ہے۔ جبکہ آتشی چٹانوں میں 0.41 فی صد تانبا اور 0.22 گرام فی ٹن سونا موجود ہے، تاہم سینڈک میں پائے جانے والے سونے کے ذخائر الگ ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق گوادر، پسنی، جیوانی اور اورماڑا کے نزدیک سمندر میں تیل اور گیس کے بے پناہ ذخائر کی تصدیق ہو چکی ہے، ساحل مکران کے آس پاس قدرتی گیس کے ذخائر جبکہ بحیرہ عرب کے ساتھ سمندری حدود میں تیل کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔

یہاں یہ واضح رہے کہ بلوچستان آبادی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے جو ملک کی مجموعی آبادی کا محض 6 سے 8 فیصد بنتی ہے۔ اس تمہید کی روشنی میں جس میں بلوچستان کے معدنی وسائل کی تفصیلات بیان کی گئیں ہیں کے بعد یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے جو نظر آتا ہے اس مسئلہ کے پیچھے وہ ”عالمی قوتیں“ بھی شامل حال لگتی ہیں جو بلوچستان کے وسائل تک رسائی کی خواہش رکھتی ہوں گی جن میں وہ خفیہ ”عالمی اقتصادی غارت گر“ نمایاں ہیں جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کے وسائل پر قبضہ جماتے ہیں۔

بلوچستان میں ”عسکریت پسندی“ کے ہونے کی ایک بڑی وجہ عالمی اقتصادی غارت گروں کا وہ گریٹ گیم بھی ہو سکتا ہے جو پاکستان کو معاشی طور پر عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتے ہیں جن میں بھارت، اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک کو شک کے دائرے میں رکھا جانا بعید از قیاس نہیں ہے تاہم اس تاثر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو بلوچستان کے سرداروں کی جانب سے سامنے آتے رہے ہیں کہ ”بلوچ نوجوان“ اب سرداروں کے کنٹرول میں نہیں رہے۔

اگر اس تاثر میں حقیقت پائی جاتی ہے تو سب سے پہلے ایسی وجوہات کو تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے جو بلوچستان کے نوجوانوں میں ”ناراضگی“ کا سبب بن رہی ہیں جن میں سے بعض ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جہاں تک بلوچستان کی سیاسی شخصیات کی جانب سے صوبہ کے وسائل پر بلوچستان کے عوام کا ”مکمل اختیار“ کا مطالبہ ہے تو اسے سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے جو یقیناً مکالمہ ”کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ آئین میں 18“ ویں آئینی ترمیم ”سے پہلے بلوچستان کا سب سے بڑا مطالبہ“ صوبائی خودمختاری ”کا ہوا کرتا تھا جبکہ اب 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو خود مختاری مل چکی ہے اس کے باوجود بلوچستان کا مسئلہ آج بھی جوں کا توں ہے جسے سنجیدگی کے ساتھ پرکھنے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک بلوچستان کے مسئلہ کو سیاسی و عسکری انداز میں حل کرنے کی کوشش کا معاملہ ہے تو اس سے مسئلہ مزید پیچیدگی اختیار کرتا جا رہا ہے جس میں“ لاپتہ افراد ”کا معاملہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایسے میں لاپتہ افراد کے حوالے سے داخلی صورتحال جو کچھ بھی ہے لیکن اس میں خارجی عنصر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے وسیع البنیاد حکمت عملی اپنائی جائے جس میں لاپتہ افراد کا معاملہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے جو بلوچستان میں“ مکالمہ ”کے لیے ماحول کو ساز گار بنا سکتا ہے۔

ملکی سیاست میں اس وقت ماحول ایسا پایا جاتا ہے جس میں بلوچستان کے مسئلہ کا جامع حل تلاش کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس وقت وفاق میں ایک نئی مخلوط حکومت بنی ہے جسے بلوچستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے جن میں بلوچستان عوامی پارٹی، جمہوری وطن پارٹی، نیشنل پارٹی، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی، اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نمایاں ہیں جبکہ یہ مخلوط حکومت ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ جمعیت علماء اسلام (ف) اور ایم کیو ایم پاکستان سمیت دیگر سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے جسے فی الوقت“ قومی حکومت ”سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

تو پھر ایسے میں یہ کہا جاسکتا ہے بلوچستان کا مسئلہ کا حل“ موجودہ سیاسی حالات ”میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ایسے میں بلوچستان کے مسئلہ کے حل کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) کے سربراہ سردار اختر مینگل کی جانب سے ماضی میں پیش کیے گئے 6 نکات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے جن میں لاپتہ افراد کی واپسی، بلوچ سیاست دانوں کو کسی مداخلت کے بغیر کام کرنے کی اجازت، قتل اور تشدد کے واقعات کو عدالتی کٹہرے میں لانا، آپریشن کی وجہ سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کی بحالی اور بلوچستان میں آپریشن کی معطلی جیسے مطالبات شامل ہیں۔

بلوچستان کے مسئلہ کے مستقل حل کے لیے ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے جبکہ بلوچستان اور وفاق کے درمیان اگر دوریاں ہیں تو اس ختم کرنے کے لیے وفاق اور بلوچستان کے درمیان ایک نیا سماجی معاہدہ بھی تشکیل دیا جاسکتا ہے جس میں ملک کے باقی تین صوبے پنجاب، سندھ اور خیبر پختون خواثالثی اور ضامن کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

محض شک و شبہات اور سیاسی مغالطہ کی بنیاد پر بنائی گئی پالیسی کسی صورت نتیجہ خیز نہیں ہو سکتیں، پہلے پہل تو بلوچستان کے مسئلہ کو“ قومی ایشو ”قرار دینے کی ضرورت ہے اس کے بعد قومی سطح پر اس مسئلہ کے حل کے لیے حقیقی معنوں میں کوششیں کرنی چاہیے کیونکہ بلوچستان ہمارا اٹوٹ انگ ہی نہیں بلکہ اس سے پاکستان کا معاشی مستقبل بھی وابستہ ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

بلوچستان،پاکستان کا معاشی مستقبل” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں