کورونا فنڈنگ سے بننے والے وبائی امراض ہسپتال کےملازمین کا تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ( پمز) کے ہاسپٹل ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود نے وبائی امراض کےلئے بنائے جانے والے ہسپتال (IHITC)  چک شہزاد کو بے گار کیمپ میں تبدیل کر دیا۔ جنوری 2022سے اب تک کرونا کی شدید ترین لہر میں خدمات سرانجام دینے والے عملہ کے 62ارکان کی تاحال تنخواہیں ادا نہ کیں۔

کرونا کی فنڈنگ سے چائنہ کی مدد سے اربوں روپے کی مالی امداد سے بننے والے وبائی امراض کے ہسپتال کے طبعی عملہ جس میں ڈاکٹرز،نرسز ،پیرا میڈیکل سٹاف، نان میڈیکل سٹاف کو تاحال تنخواہیں نہیں ادا کی گئیں۔رمضان جیسے مقدس ماہ میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان کے ڈیوٹی ٹائم میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔

طبی عملہ کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے ڈائریکٹر چاہتے ہیں کہ ہم لوگ خود ہی نوکریاں چھوڑ کر بھاگ جائیں ۔ڈاکٹر خالد مسعود جنہیں سابق وزیر اعظم کے امریکی نژاد کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی پمز کے ہسپتال ڈائریکٹر کی سیٹ پر لے کر آئے تھے اس سے قبل وہ ایل آر ایچ پشاور کا مبینہ طور پر بیڑا غرق کر کے آئے ہیں، اس سے قبل وہ اسی ایم ٹی آئی سسٹم کے ماتحت بنوں میں بھی تباہی مچا چکے ہیں۔

ملازمین کا کہنا تھاکہ سابقہ وزیر اعظم کے کزن کی آشیر آباد حاصل ہونے کے باعث پمز میں ہسپتال ڈائریکٹر کی سیٹ پر قابل ترین لوگوں یہ سیٹ نہ دی گئی جبکہ امریکہ پلٹ ڈاکٹر نوشیروان برکی کی مبینہ ہدایت پر ان کو اس سیٹ پر براجمان کیا گیا۔

دوسری جانب ان کی نا اہلی کے باعث روزانہ سینکڑوں مریضوں کو پمز میں صحت سہولت کارڈ پر علاج معالجہ بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث ایک شہری اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو درخواست بھی دے چکا ہے۔ ان ہی کی نا اہلی کے باعث 8 سو سے زائد ہیلتھ کارڈ کی فائلیں تاحال انشورنس کمپنی کو نہیں بجھوائی جا سکیں۔

وزارت صحت حکام کی جانب سے بھی تاحال ان کے خلاف کسی قسم کا ایکشن دیکھنے میں نظر نہیں آیا۔ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی مریضوں کی جانب سے درخواستیں بھیجی گئی ہیں کہ پمز ہسپتال کی نا اہل انتظامیہ کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

وزار ت صحت حکام کی مجرمانہ خاموشی کے باعث کرونا جیسی وبا میں کام کرنے والے ملازمین گزشتہ 4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں، وبائی امراض کے ہسپتال میں کام کرنےو الے عملہ نے بھی وزیراعظم میاں شہباز شریف کو میڈیا کے ذریعہ درخواست کی ہے کہ ان کو تنخواہیں دلوائی جائیں۔ اس بے گار کمیپ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

وبائی امراض ہسپتال کے ڈاکٹرز نے ’’میڈیا‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں تنخواہیں نہیں دی جا رہیں، ہمارے ڈیوٹی آوارز میں اضافہ صرف اس لئے کیا گیا ہے کہ ہم لوگ استعفی دے دیں ہمارے کنٹریکٹ میں بھی تاحال اضافہ نہیں کیا گیا اسی کے باعث 88 ملازمین کو بغیر تنخواہ دیئے نوکریوں سے فارغ بھی کیا جا چکا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں