پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت مثبت رہی ہے۔ آئی ایم ایف مشن چیف

آئی ایم ایف مشن چیف برائے پاکستان نیتھن پورٹر نے پاکستانی وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف کے اعلامیہ مطابق کہ وزیر خزانہ کے ساتھ اقتصادی پالیسیوں پر بات چیت نتیجہ خیز رہی،آئی ایم ایف مئی میں اپنا مشن پاکستان بھیجے گا، تاکہ ساتویں ای ایف ایف ریویو کو مکمل کرنے کے لیے پالیسیوں پر مزید بات چیت کی جا سکے۔ میٹنگ میں غیر فنڈ شدہ سبسڈیز کو واپس لینے کے لیے فوری اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے پروگرام میں جون 2023 تک توسیع کی درخواست کی ہے، پاکستانی حکام موجودہ چینلجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم کا اظہار کیا ہے۔

آئی ایم ایف کے ترجمان گیری پرائس نے بھی ٹویٹ میں کہا کہ ’آئی ایم ایف کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر اور پاکستان کے وزیرِ خزانہ کے درمیان توسیعی فنڈ کی سہولت برقرار رکھنے کے حوالے سے مثبت بات چیت ہوئی.

گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا  ڈیفالٹ کا کوئی چانس نہیں، اس سال ٹیکس ریٹ بڑھانے کا ارادہ نہیں لیکن ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ غربت میں کمی کیلئے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں رقم بڑھائی جاسکتی ہے، اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دی جا چکی ہے۔

انہون ںے کہا کہ لنگرخانوں کی طرح کارخانوں کی تعداد بڑھائیں گے، کارخانوں کی تعداد اس لیے بڑھائیں گے تاکہ لنگرخانے کم ہوں، عمران خان حکومت نے جو معاہدے کیے وہ نبھانے کے پابند ہیں کیونکہ معاہدے عمران خان کے نہیں حکومت پاکستان کے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پیٹرول پر سبسڈی دی جارہی ہے مگر 70 فیصد لوگ گاڑیوں والے ہیں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر پر سبسڈی دیتے ہیں تو تنقید کی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے فنڈز کی رقم بڑھانے اور پروگرام کو بھی آگے بڑھانے کی درخواست کی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں