پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات: بجلی و پیٹرول پر سبسڈی مرحلہ وار ختم کرنے پر اتفاق

پاکستان اور آئی ایم ایف قرض پروگرام جاری رکھنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

واشنگٹن:  وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر قیادت پاکستانی وفد کی آئی ایم ایف کے حکام سے ہونے والی بات چیت مکمل ہو گئی ہے جس میں فریقین نے قرض پروگرام جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔پاکستانی وفد میں عائشہ غوث پاشا اور گورنر اسٹیٹ بینک سمیت دیگر متعلقہ حکام شامل تھے جب کہ آئی ایم ایف کا وفد ڈپٹی ڈائریکٹرجنرل، ڈائریکٹرایم سی ڈی اورمشن چیف پر مشتمل تھا۔

ذرائع مطابق ہونے والی بات چیت میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف پروگرام جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان معاشی اصلاحات کیلئے آئی ایم ایف کے روڈ میپ پرعمل درآمد کرے گا۔

ذرائع مطابق بجلی اور پیٹرول کی سبسڈی مرحلہ وارختم کی جائے گی۔ ملاقات میں آئی ایم ایف کے وفد کو یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستان بجلی کے نقصانات کم کرے گا۔ پاکستانی وفد نے آمدن بڑھانے کے لیے اصلاحات پر بھی اتفاق کیا۔ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اورآئی ایم ایف کی ٹیم پروگرام کی توسیع پرکام کرے گی، ٹیکنیکل ٹیم دو طرفہ ڈیٹا کا جائزہ لے گی۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف حکام نے مذاکرات کے دوران کہا کہ پاکستان غریب طبقے کے لیے سبسڈیز جاری رکھے اور انکم سپورٹ پروگرام پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ صحت کارڈ کی سہولت پر بھی رضامندی ظاہر کی۔

ملاقات میں پاکستانی وفد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے لیے کوششیں کی جائیں گی اور ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ معاشی نظم و ضبط قائم رکھا جائے گا۔

پاکستانی اور آئی ایم ایف کے وفود کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کی بابت جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئیں، وفود نے ساتویں جائزے کومکمل کرنےکے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

اعلامیے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستانی وفد سے مکمل حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ مشن چیف کی قیادت میں آئی ایم ایف کا مشن مئی میں پاکستان کا دورہ کرے گا۔

اعلامیے کے تحت قرضوں اور منصوبوں کی پیشرفت کے ساتھ ساتھ مزید امداد کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے فراہم کی جانے والی مالی اور تکنیکی امداد پر بینک حکام کا شکریہ ادا کیا۔ملاقات کے دوران ایم ڈی آپریشنز نے بھی پاکستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں